اس سورت کے کئی ایک اسماء ہیں ، جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :
1- سورة سجدة (1)
2- سورة (الم * تنزيل السجدة ):
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ : ((نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، یوم الجمعة كو صلاة الفجر میں ، الم تنزيل السجدة اور سورة الدهر کی تلاوت کرتے تھے۔))
یوم الجمعة کو صلاة الصبح میں اس سورة كى تلاوت كرنا، مستحب ہے ۔ اس کی دلیل حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیثِ سابق ہے ۔
المَكِّيِّ والمَدَنيِّ کا بیان :
سورة السجدة مكى سورة ہے ۔ اس کے مکی سورة ہونے پر اجماع نقل کیا گیا ہے۔
نمایاں موضوعات جن کا سورة سجدة میں احاطہ کیا گیا ہے :
1-بذریعہ صفات الهى عظمت الہی کا بیان۔ مزید یہ کہ تخلیق و حکم ، بعث و جزاء میں رب لم یزل کی كمال قدرت كا إظهار
2- شان قرآن كا بيان کہ يہ ہدایت کا سرچشمہ ہے جس کا اس سورت اور دیگر سورتوں میں احاطہ کیا گیا ہے(6)۔
سورة کے اهم موضوعات یہ ہیں :
1۔عظمت قرآن كا بيان اور یہ کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے ، اور مشرکین کے اس دعوے کی تردید کہ یہ من گھڑت ہے۔
2- ارض و سموات کی تخلیق میں اللہ تعالی کی انفرادیت کا ذکر اور اس کی قدرت کے بعض مظاہر کا جلوہ اور یہ کہ اپنی مخلوق میں بدیع ہونے موجد بہونے اور انسان کی نشأت کا بیان۔
3- بعثت کے بارے میں مشرکین کے بعض شبہات پیش کرنا اور ان کا جواب دینا۔
4- قیامت کے مناظر کا ایک منظر: مجرموں کا منظر جب قیامت کے دن اللہ کے سامنے ہونگے۔
5- مومنین کی بعض خصوصیات کا ذکر اور ان انعامات کا بیان جو اللہ نے اہل ایمان کے لیے تیار کر رکھے ہیں ، اور اس عذاب کا تذکرہ جو اللہ نے فاسقین کے لیے نار جہنم کی صورت میں تیار کیا ہوا ہے۔
6- موسیٰ علیہ السلام کا ذکر کرتے ہوئے اور خدا نے تورات دے کر ان کا شکر کیا ادا کیا ، اور جو وہ اپنی قوم کے نیک لوگوں کے لیے شکر گزار تھے۔ جس نے انہیں امام بنایا۔
7- مشرکین کو دعوت دینا کہ وہ خدا کی نشانیوں پر غور و فکر کریں۔
8- مشرکین کی بعض حماقتوں کو نقل کرکے ساتھ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا حکم دینا کہ ان کا رد کریں اور انہیں دھمکائیں ۔
9- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ان سے دور ہو جائیں اور ان سے ان پر فتح و نصرت کا وعدہ کریں اور انتظار کریں۔

0 تبصرے
abdmanalhusaam@gmail.com