سعودی عرب میں
لاکھوں غیر ملکی مقیم ہیں جن میں سے بہت سارے اپنے کفیلوں اور
کمپنیوں کے سخت اور غیر منصفانہ سلوک سے بھی پریشان نظر آتے ہیں تاہم لیبر لاء میں ترمیم کے اعلان
نے ان میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ غیر ملکی کارکنان کو بہت سے مسائل کا سامنا کرنا ہوتا ہے
جن کے وہ جوابات جاننا چاہتے ہیں۔
سعودیہ میں مقیم ایک غیر ملکی کارکن نے سوال پوچھا ہے”
میں جس کمپنی میں
ملازمت کرتا ہوں وہاں سب ورکر ز سے ایگریمنٹ کروائے جارہے ہیں، معلوم یہ کرنا ہے
کہ کیانئے قانون کے تحت دوبارہ ایگریمنٹ کرانا ہوں گے؟ “ اس سوال کے جواب میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں محنت
کے قانون کے مطابق ملازمت کا
معاہدہ ضروری ہوتا ہے۔
سعودی لاءکے مطابق غیر ملکی کارکن کے لیے ورک ایگریمنٹ محدود مدت کے لیے ہوتا ہے۔
محدود مدت کا معاہدہ سالانہ بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ جب
معاہدہ تجدید ہوتا ہے اس میں نئی شقیں جو تبدیل ہوگئی ہوتی ہیں، ان کا اندراج
لازمی کرنا ہوتا ہے۔ یعنی ورکر کی سیلری اور دیگر مراعات میں کیا جانے والا اضافہ
اسکے علاوہ آجر کی جانب سے نئی شرائط کا اندراج سالانہ بنیاد پر کیا جاتا ہے۔اگر آ
پ کی کمپنی ایگریمنٹ
سائن کررہی ہے تو اس سے نئے قانون کے مطابق کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ نئے قانون میں
غیر ملکی ورکرز کو کافی مراعات حاصل ہوں گی جس کے تحت وہ کام کرنے میں آزاد ہوں گے
تاہم دوسری جگہ کام کرنے کے لیے انہیں رجسٹرڈ کمپنی جو سعودائزیشن
کی شرائط پوری کرتی ہو کی جانب سے مصدقہ ڈیمانڈ نوٹ درکار ہوگا۔
ایک اور غیر ملکی کارکن نے سوال کیا ہے کہ نئے قانون
میں اقامہ تجدید کون کرے گا، جو لوگ آزاد کام کررہے ہیں ان کا ایگریمنٹ کس طرح
ہوگا؟ جس کے جواب میں بتایا گیا کہ سعودی
عرب میں آزادانہ کام کرنے کی کوئی قانونی اصطلاح نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے
سے قانون میں کوئی شق موجودہے۔ جہاں تک
ایگریمنٹ کی بات ہے اس حوالے سے ابھی تک جواطلاعات ہیں ان کے مطابق غیر ملکی
کارکنوں کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ قابلیت یعنی اقامہ پر
موجودمھنہ کے مطابق کسی ایسی کمپنی سے
کام کی ’طلب ‘ حاصل کریں جو انکی خدمات حاصل کرناچاہتی ہوں۔
ورک ڈیمانڈ ہی ایگریمنٹ کی بنیاد ہوگا جس کے تحت کارکن دوسری جگہ کام کرنے کے اہل ہوں گے۔ایگریمنٹ کو سابق کمپنی اور نئی کمپنی کے ایچ آر کا شعبہ تصدیق کرے گا جس کے بعد قانونی طور پر کام کرسکیں گے۔

0 تبصرے
abdmanalhusaam@gmail.com